Friday, June 17, 2022

How to Enable and use the Enhanced Tracking Protection || Secure yourself in Cyber World

 ❇️ How to Enable and use the Enhanced Tracking Protection



➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

     🌐 Well, the Enhanced Tracking Protection feature comes enabled in the latest version of the Firefox browser. The default settings use the Standard protection, but you can change it to Strict to get stronger protection. Here’s how you can do that.


🔹Step 1: First, open the Firefox web browser on your computer.


🔹Step 2: Next, click on the Hamburger menu (Three lines) in the top-right corner.


🔹Step 3: From the list of options, click on Settings.


🔹Step 4: On the Settings screen, click on the Privacy & Security tab on the left pane.


🔹Step 5: On the right, you will find the Enhanced Tracking Protection settings. If you want stronger protection, you need to select the Strict option.


🔹Step 6: If you want to manually choose which trackers and scripts to block, select Custom and select the trackers and scripts to block.


      ✅ That’s it! You are done. This is how you can configure the Enhanced Tracking protection feature in the Firefox browser.


Keep supporting us❤️

Thursday, November 19, 2020

علامہ خادم حسین رضوی || غیرت و حمیت کا دوسرا نام




گزشتہ شب خبر ملی کہ علامہ خادم حسین
 رضوی رحمتہ اللہ علیہ دنیا فانی سے کوچ کر گئے ہیں۔ پہلے تو یقین نہ آیا پھر ایک خبر وائرل ہوئی کے امیر المجاھدین کی سانسیں دوبارہ سے چلنا شروع ہو گئی ہیں وقتی طور پہ کچھ حوصلہ ہوا دل سے دعا نکلی کہ اے اللّٰہ ہم کو اپنی اس عظیم نعمت سے محروم نہ کرنا لیکن کچھ دیر بعد امیر شمالی پنجاب کی جانب سے ایک ویڈیو پیغام میں یہ بتا دیا گیا کہ امیر المجاھدین وفات پا گئے ہیں۔ پوری رات قرب میں گزری ،آنسو آنکھوں سے چھلکتے رہے ، سوشل میڈیا پہ مختلف کلپس سامنے سے گزرتے تو امیر المجاھدین کی باتیں سن کر دل گویا خون کے آنسو روتا رہا۔ 
آخر کیا رشتہ تھا اس شخص کے ساتھ ، جو اپنوں کی جدائی سے زیادہ غم اس شخص کی جدائی سے ہو رہا ہے۔ 
اہلسنت کو صدی بعد ایسی قیادت نصیب ہوئی تھی جسکو نہ ہی اپنا مفاد عزیز تھا نہ اپنی جان کی پرواہ ، نہ ہی اپنے اوپر لگی تہمتوں کی فکر ۔ فکر تھی پرواہ تھی تو بس اسلام کی ، حضور پاک سرور کائنات خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ناموس کی۔
آخری وقت تک کفر کو للکارتا رہا یہ مرد مجاھد ، گیرٹ ویلڈر جیسے ملعون اور یورپ و ہندوستان اس شخص کو اپنے لیے خطرہ سمجھ رہا تھا۔  اس دور میں جب اسلام پہ بننے والی ریاست کو بھی اپنے مفاد کی خاطر مغربیت کے سامنے جھکنا پڑ رہا ہے اپنوں کے خون کا سودا کرنا پڑ رہا ہے اپنی غیرت و حمیت کو چھوڑنا پڑ رہا ہے تب ایک شخص اسلام کا نعرہ لگا رہا تھا ، لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نعرہ لگا رہا تھا ۔ بیماری کی حالت میں بھی ، ٹھنڈ اور بارش میں بھی فیض آباد دھرنا دیے بیٹھا رہا اور حکمرانوں کو غیرت دلاتا رہا کہ جن لوگوں نے خاکے بنائے ، خاکے شائع کیے ان سے کسی قسم کا تعلق نہ رکھو ۔ جاتے جاتے بھی ناموس رسالت کا پہرہ دار ہونے کا حق نبھا گئے۔
صدیوں تک ان کی کمی محسوس کی جاتی رہے گی۔ 

Wednesday, May 20, 2020

کرنل کی بیوی

حیرت کی بات ہے جس فوج کی وجہ سے ہم سکون کی نیند سوتے ہیں اس فوج کے ایک کرنل کی بیوی اتنا بھی اختیار نہیں رکھتی کہ وہ قانون کی دھجیاں اڑا سکے۔ یہ پولیس والے بھی را کے ایجینٹ ہیں جو کرنل کی بیوی کی طرف سے نازل ہونے والی بے عزتی کو برداشت نہیں کر سکتے اور نہ صرف عام لوگوں کی طرح لائن میں کھڑا رکھتے ہیں بلکہ ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پہ بھی اپلوڈ کر دیتے ہیں۔
زرا سوچیں کہ یہ ففتھ جنریشن وار کا دور ہے اس میں ہم اگر کرنل کی بیوی کو برداشت نہیں کریں گے تو دشمن کیا سوچے گا کہ کیسی قوم ہے جو اپنے کرنل کی بیوی کو ٹویٹر کا ٹاپ ٹرینڈ بنانے پہ تُلی ہے۔
اور جو یہ غدار فیس بک اور ٹویٹر پہ بیٹھے کرنل کی بیوی کو برا بھلا کہہ رہے ہیں ان میں   
سے اکثریت تو خود کرنل باسمتی چاول پہ
پلتی ہے۔
اگر کرنل کی بیوی صوبیدار کی ماں کی آنکھ کو اپنی زبان پہ لے آئیں تو اس میں کیا حرج ہے یہ فوج کااندرونی معاملہ ہے کرنل بھی انکا صوبیدار بھی انکا قانون بھی انکا اور ملک بھی انکا۔
عوام ہیں خومخواہ اس میں

Thursday, March 12, 2020

نظریہ کے ایچ خورشید

خورشید حسن خورشید مرحوم کی برسی کے موقع پہ وزیراعظم آزاد کشمیر نے برملا کہا ہے کہ
وہ مرحوم کے نظریہ کہ حامی ہیں جبکہ ماضی میں سردار عبد القیوم خان مرحوم کے پرچم تلے جناب کے ایچ خورشید مرحوم کو اسٹبلشمنٹ کی خوشنودی کی خاطر غدار ثابت کرنے کے لیے دلیلیں دی جاتی تھی۔
جناب کے ایچ خورشید مرحوم یہ چاہتے تھے کہ پاکستان آزادکشمیر حکومت کو مہاراجہ کے وارث کے طور پہ تسلیم کرے۔
فاروق حیدر خان صاحب کے بیانات پہ مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن ایک طرف تو وہ یہ ثابت کرنے پہ تُلے ہیں کہ وہ کسی بھی پاکستانی سے زیادہ پاکستان کے وفادار ہیں یعنی شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہیں دوسری طرف کشمیریت والی رگ بھی جوش مار رہی ہے۔ ہم بھارت کو بددعائیں اور کڑک بیانات سے شکست دے کر کشمیر کو آزادی دلوانے والے فلسفہ کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔
تحریر: عبیدالرحمان سلیم

Wednesday, May 15, 2019

Assalamu alayka ya Rasool Allah lyrics Urdu| English| Arabic

Assalamu alayka ya Rasool Allah lyrics Urdu| English| Arabic




Raqqat ‘ainaya shawqan

Wa li Taibata tharafat ‘ishqan
Fa'ataytu ila habibi
Fahda' ya qalbu wa rifqan
Salli ‘ala Muhammad

Assalamu alayka ya Rasool Allah
Assalamu alayka ya habibi
Ya Nabiyya Allah
Assalamu alayka ya Rasool Allah
Assalamu alayka ya habibi
Ya Nabiyya Allah
Ya Rasool Allah
Qalbun bil Haqqi ta'allaq

Wa bi ghari hira'a ta'allaq
Yabki yas'alu khaliqahu
Fa'atahul wahyu fa'ashraq
Iqra' iqra' ya Muhammad

Assalamu alayka ya Rasool Allah
Assalamu alayka ya habibi
Ya Nabiyya Allah
Assalamu alayka ya Rasool Allah
Assalamu alayka ya habibi
Ya Nabiyya Allah
Ya Rasool Allah
Ya Taibatu ji'tuki sabba

Li rasoulillahi muhibba
Birrawdhati sakanat rouhi
Wa jiwaril hadi Muhammad
Ya Taibatu ji'tuki sabba
Li rasoulillahi muhibba
Birrawdhati sakanat rouhi
Wa jiwaril hadi Muhammad
Assalamu alayka ya Rasool Allah
Assalamu alayka ya habibi
Ya Nabiyya Allah
Assalamu alayka ya Rasool Allah
Assalamu alayka ya habibi
Ya Nabiyya Allah
_________________________________________________________________
Raqqat ‘ainaya shawqan رقت عيناي شوقاً

Wa li Taibata tharafat ‘ishqan ولطيبة ذرفت
عشقاً
Fa'ataytu ila habibi فأتيت إلى حبيبي

Fahda' ya qalbu wa rifqan فاهدأ يا قلب
ورفقاً
Salli ‘ala Muhammad صل على محمد
Assalamu alayka ya Rasool Allah السلام عليك يا
رسول الله
Assalamu alayka ya habibi السلام عليك يا
حبيبي
Ya Nabiyya Allah يا نبي الله
Assalamu alayka ya Rasool Allah السلام عليك يا
رسول الله
Assalamu alayka ya habibi السلام عليك يا
حبيبي

Ya Nabiyya Allah يا نبي الله

Ya Rasool Allah يا رسول الله
Music
Qalbun bil Haqqi ta'allaq قلب بالحق تعلق

Wa bi ghari hira'a ta'allaq وبغار حراءَ تألق
Yabki yas'alu khaliqahu يبكي يسأل خالقَهُ
Fa'atahul wahyu fa'ashraq فأتاه الوحي فأشرق
Iqra' iqra' ya Muhammad اقرأ اقرأ يا محمد
Assalamu alayka ya Rasool Allah السلام عليك يا
رسول الله
Assalamu alayka ya habibi السلام عليك يا
حبيبي
Ya Nabiyya Allah يا نبي الله

Assalamu alayka ya Rasool Allah السلام عليك يا
رسول الله

Assalamu alayka ya habibi السلام عليك يا
حبيبي
Ya Nabiyya Allah يا نبي الله
Ya Rasool Allah يا رسول الله
Music

Ya Taibatu ji'tuki sabba يا طيبة جئتك صباً
Li rasoulillahi muhibba لرسول الله محباً
Birrawdhati sakanat rouhi بالروضة سكنت روحي
Wa jiwaril hadi Muhammad وجوار الهادي محمد

Ya Taibatu ji'tuki sabba يا طيبة جئتك صباً
Li rasoulillahi muhibba لرسول الله محباً
Birrawdhati sakanat rouhi بالروضة سكنت روحي
Wa jiwaril hadi Muhammad وجوار الهادي محمد
Assalamu alayka ya Rasool Allah السلام عليك يا
رسول الله
Assalamu alayka ya habibi السلام عليك يا
حبيبي
Ya Nabiyya Allah يا نبي الله
Assalamu alayka ya Rasool Allah السلام عليك يا
رسول الله
Assalamu alayka ya habibi السلام عليك يا
حبيبي

Wednesday, March 6, 2019

Introduction of Kashmiri Mujahideen Adil Dar Burhan Muzaffar Wani and Riyaz Naikoo

___________________________________________________

عادل ڈار

کاک پورہ گاؤں میں اپنے گھر سے ایک برس قبل بھاگ جانے کے بعد عادل ڈار جیش محمد میں شامل ہو گئے اور بندوق اٹھا لی۔ عادل ڈار کا گھر دو منزلہ ہے جہاں ان کے گھر والے پہلی منزل پر رہتے ہیں۔ یہ کسانوں کا خاندان ہے۔ عادل ڈار کے والد غلام حسن ڈار نے کہا کہ اب کشمیریوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے، وہ جان ومال کو لاحق خطرات سمیت ہر خوف سے آزاد ہو چکے ہیں، اس مسئلے کا واحد حل مذاکرات ہیں، کوئی نہ کوئی کشمیری نوجوان ہر روز زندگی سے محروم ہو کر موت کے اندھیروں میں گم ہو جاتا ہےؕ
غلام حسن ڈار نے کہا کہ میں تنازع کشمیر کے فریقوں سے اپیل کرتا ہوں کہ خدا کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ مذاکرات شروع کریں، یہ لوگ میری بات پر توجہ کیوں نہیں دیتے؟ غور کرنے کا مقام ہے کہ اگر جنگ کے بعد بھی مذاکرات کی میز پر ہی آنا پڑے گا، جب تک مسئلہ کشمیر پر کوئی فیصلہ نہیں ہو جاتا ہمارے نوجوان لہو میں ڈوبے رہیں گے ، آج یہ میرے بیٹے کے ساتھ ہوا، کل یہی کسی اور کی اولاد کے ساتھ ہو گا، کشمیر کے نوجوان میرے بیٹے کی قربانی سے متاثر ہو کر آزادی کیلئے بندوق اٹھا لیں گے، یہ ان بچوں کے مرنے کی عمر ہرگز نہیں ہے، اب یہ خونیں باب بند ہو جانا چاہیے اور ہمارے بچوں کو زندہ رہنے کا موقع ملنا چاہیے۔
انھوں نے مزید کہا کہ میں نے پڑھا ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے حال ہی میں بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ جائزہ لے کہ آخر کشمیری نوجوان بندوق اٹھانے پر کیوں مجبور ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میری دانست میں عمران خان کی بات میں وزن اور معقولیت ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا بھارت میں کسی نے اس بات پر توجہ دینے کی زحمت کی؟
غلام حسن کا کہنا تھا کہ 18 سے 25 سال تک عمر کے کشمیری نوجوان تیزی سے مسلح جدوجہد کا حصہ بنتے جارہے ہیں، پہلے وہ ذہنی اور قلبی طور پر اس جدوجہد اور شہادت پانے والے اپنے ہم عمر نوجوانوں سے متاثر ہوتے ہیں، پھر ان کے ہاتھوں میں بندوقیں آ جاتی ہیں، 20سالہ عادل ڈار کے والد نے بتایا کہ بھارتی سکیورٹی فورسز نے 2016 کے دوران پہلی مرتبہ میرے بیٹے کو پکڑ کر اسے تشدد کا نشانہ بنایا جب وہ اپنے دادا اور دادی سے ملاقات کے بعد‘‘ نیوا ’’ نامی قریبی گائوں سے گھر واپس آرہا تھا۔
بھارتی فوج کے ظلم کا ایسا ہی دوسرا واقعہ 2017 میں پیش آیا، بھارتی فوجی اہلکاروں نے عادل ڈار کو گرفتار کرنے کے بعد اسے بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ اس کی اہانت بھی کی، غلام حسن ڈار نے بتایا کہ بھارتی فوجیوں نے طاقت کے زور پر میرے بیٹے کو سڑک پر ناک رگڑنے پر مجبور کیا، اس ظلم کا شکار ہونے کے بعد جب عادل گھر پہنچا تو اس کے جسم پر کئی زخم تھے جن سے خون بہہ رہا تھا، اس نے مجھ سے کہا کہ مجھ پر جو تشدد ہوا اور بھارتی فوجیوں نے میری جو تضحیک کی اسے برداشت کرکے زندہ رہنے کی نسبت تو مر جانا ہی بہتر ہے۔
غلام حسن ڈار نے کہا کہ مجھ سمیت گھر کے تمام افراد نے عادل کو سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ اس پر جو ظلم ہوا اسے دل پر نہ لے، کیونکہ بھارتی فوجیوں کو مظالم کرنے سے روکنا ان کے بس کی بات نہیں ہے لیکن عادل ایسی کوئی بات سننے پر رضامند ہی نہیں تھا، اس نے دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ ‘‘ میں ہر قیمت پر آزادی چاہتا ہوں، آزادی کیلئے میں اپنی جان بھی قربان کردوں گا’’۔
غلام حسن ڈار نے سوال اٹھایا کہ مجھے بتائیے کہ ایک باپ کی حیثیت سے میں کیا کروں؟ کیونکہ مقبوضہ کشمیر میں ہر دوسرے روز بھارتی سکیورٹی فورسز کے اہلکار نوجوانوں کو وحشیانہ مظالم اور اہانت کا نشانہ بناتے ہیں، جب ہمارے بچے اپنے گھروں سے باہر جاتے ہیں اور اپنی آنکھوں سے دوسرے کشمیری نوجوانوں کو بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں وحشیانہ مظالم اور اذیت ناک اہانت کا نشانہ بنتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ان پر شدید ردعمل ہوتا ہے، ان کے دل کی گہرائیوں 
سے یہی صدا بلند ہوتی ہے کہ اٹھو اور شمع آزادی پر اپنی جان قربان کر دو۔
________________________________________________________________________________
 

برہان مظفر وانی

مقبوضہ کشمیرمیں واقع شریف آباد وہ علاقہ ہے جہاں برہان الدین وانی اپنے خاندان کے ساتھ رہا کرتا تھا، 2016 میں بھارتی
 فوجیوں کے ساتھ ایک مقابلے میں وہ شہید ہو گیا تھا، اس کے فوری بعد پوری وادی میں نہ صرف یہ کہ شدید بے چینی پھیل گئی تھی بلکہ آزادی کشمیر کیلئے مسلح جدوجہد کو بہت بڑے پیمانے پر فروغ ملا تھا، برہان وانی کی شہادت سے کشمیری عوام بالخصوص نوجوانوں میں ایک جذبہ تازہ پیدا ہوگیا تھا جس کا مظاہرہ اب بھی کسی نہ کسی صورت ہوتا رہتا ہے۔
برہان کے والد مظفر احمد وانی درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں، وہ ریاضی کے استاد ہیں اور اب بھی اپنے خاندان کے ساتھ اسی گائوں میں رہتے ہیں، مظفر وانی نے پہلے تو گفتگو سے گریز کرنے کی کوشش کی، ان کا کہنا تھا کہ پوری وادی میں صورتحال انتہائی مخدوش اور دھماکہ خیز ہو چکی ہے ، انہوں نے کہا کہ میں اپنے دو جوان بیٹوں کو قربان کر چکا ہوں، ذرائع ابلاغ کے نمائندے اکثر میرے پاس آجاتے ہیں، مجھے خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ بھارتی سکیورٹی فورسز کے اہلکار ایک مرتبہ پھر میرے دروازے پر دستک دیں گے ، میں ایسا نہیں چاہتا کیونکہ اب میں اپنے خاندان کے ساتھ زندگی کی گاڑی کو کھینچنے پر پوری توجہ مرکوز کرنا چاہتا ہوں۔
مظفر احمد وانی نے جو ایک سرکاری سکول کے پرنسپل ہیں، زور دے کر کہا کہ مسئلہ کشمیر کو ہمیشہ کیلئے حل کرنا بے حد ضروری ہو گیا ہے ، حکومت کو چاہیے کہ اب اس معاملے کو طول دینے کی کوشش ہرگز نہ کرے، بھارتی حکومت کو چاہیے کہ اس معاملے پر پاکستان اور جموں و کشمیر کے عوام سے مذاکرات کرے، کشمیر کو محض ووٹ بینک سمجھنا بہت بڑی غلطی ہو گی۔ مظفر احمد وانی نے کہا کون سے والدین اپنے بچوں کی بہتری نہیں چاہتے؟ کون سے ماں باپ نہیں چاہتے کہ ان کابیٹا اچھی تعلیم حاصل کرے، اسے اچھی ملازمت ملے اور وہ اطمینان کے ساتھ باوقار زندگی بسر کرے۔
انہوں نے انتہائی غمناک لہجے میں کہا کہ میری خواہش تھی کہ میرا بڑا بیٹا معاشیات میں پی ایچ ڈی کرے لیکن یہ میری بد نصیبی تھی کہ وہ بھارتی سکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں نشانہ بن گیا، اسی طرح میں چاہتا تھا کہ چھوٹا افسر بن جائے لیکن میں نہیں جانتا تھا کہ میرے نصیب میں تو دونوں ہونہار بیٹوں سے محرومی لکھی تھی۔
مظفر احمد وانی نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں نوجوان اس وقت حالات کے دبائو کی وجہ سے اسلحہ اٹھانے پر مجبور ہو گئے ہیں، ہماری نسل تو بڑی حد تک ہچکچاہٹ اور شاید کم حوصلگی کا شکار تھی لیکن اس کے برعکس کشمیریوں کی موجودہ نسل بے خوف اور پراعتماد ہے، ہماری نئی نسل اچھی طرح جانتی ہے کہ اگر انہوں نے اسلحہ اٹھایا تو جلد یا بدیر بھارتی سکیورٹی فورسز انہیں ہلاک کر دیں گی، اس کے باوجود وہ کشمیر کی آزادی کیلئے مسلح جدوجہد میں شریک ہونے کیلئے ہر وقت بے تاب رہتے ہیں، یہ بہت خطرناک رجحان ہے۔
انہوں نے کہا کہ تنازع کشمیر کو حل کرنے کی خاطر پاکستان اور بھارت کو بلا تاخیر بات چیت شروع کرنی چاہئے اور ان مذکرات کی بنیاد ‘‘ انسانیت’’ ہونی چاہئے، مظفر وانی نے کہا کہ حال ہی میں جب پاکستان نے گرفتار بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو رہا کیا تو ہمیں بہت اطمینان ہوا تھا، پاکستان کا یہ اقدام اس بات کا ثبوت تھا کہ انسانیت ابھی فنا نہیں ہوئی بلکہ زندہ ہے۔
__________________________________________________________________________________

 ریاض نیکو

ماہرین کے مطابق جنوبی کشمیر میں سب سے زیادہ متحرک حزب المجاہدین ہے جس کی قیادت 33 سالہ ریاض نیکو کے ہاتھ میں ہے جو ہمیشہ ایک استاد رہا ہے۔ نیکو کا تعلق پلوامہ کے گاؤں بیگ پورہ سے ہے، سات برس قبل ریاضی میں اپنی ڈگری مکمل کرنے کے بعد نیکو نے ہتھیار اٹھا لیا ۔ریاض نیکو کے اہل خانہ نے اب یہ تسلیم کر لیا ہے کہ گھر میں جلدی یا دیر سے نیکو کی لاش ہی آئے گی۔
نیکو کے والد اسداللہ نیکو کہتے ہیں کہ جب بھی کوئی انکاؤنٹر ہوتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ ان کا بیٹا مرنے والوں میں شامل ہو گا۔ جب ان سے علیحدگی پسند تحریک کی حمایت اور بحیثیت والد ان کے جذبات کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا ‘بحیثیت مسلمان یہ فخر کی بات ہے، ہم یہ نہیں گے کہ یہ غلط ہے، اگر وہ منشیات یا غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہوتا تو ہمارا نام بدنام ہوتا لیکن ہمیں اس بات کا سکون ہے کہ وہ صحیح کام کر رہا ہے۔

Sardar Ubaid Ur Rahman Boxer First Victory

Sardar Ubaid Ur Rahman Boxer first Victory