Friday, February 22, 2019

Call Phone Online For Free

List Of 3 Websites To Call Phone Online For Free Without Registering:

  1. IEvaphone – This website allows you to call any phone number in the world (international phone numbers) for around 3 minutes (180 seconds). The interface is pretty good. No hassles! :) :) :)This is one of the most popular free phone calling websites in the world. Normally, you will be allowed to make only 1 or 2 calls per day. This website has always worked for me, which is why I have it on the top of this list!
    IEvaphone Screenshot
  2. Call2Friends – This website is similar to IEvaphone. The only difference is that it looks better. :D :D :D Here also, you will get to make a phone call for around 3 minutes (180 seconds) and you will normally be allowed to make only 1 or 2 calls per day. However, sometimes this site does not seem to work properly. That is the reason it is second on this list. I mean, it works like 90% to 95% of the time. So, it is not a big issue.
    Call2Friends - Screenshot
  3. Globfone – This is not as good as the above two options, simply because it does not work a lot of time. But still, you might give it a try if you are desperate to make quite a few phone calls online for free. It allows you to make a 2-minute phone call for free. Also, you must know that this website causes a lot of troubles if Java is not installed properly on your computer. :cry: :cry: :cry: So make sure that such is not the case.
    Globfone - Screenshot


Thursday, February 14, 2019

Abbreviations list of cities in Pakistan


Abbreviations list of cities in Pakistan


___________________________________________
Abbottabad
AAW
Lahore
LHE
Attock
ATG
Bahawalnagar
WGB
Bahawalpur
BHV
Bannu
BNP
Sargodha
BHW
Gujrat
GRT
Gwadar
GWD
Hyderabad
HDD
Islamabad
ISB
Jacobabad
JAG
Karachi
KHI
Jiwani
JIW
Mirpur Khas
MPD
Mohenjodaro
MJD
Multan
MUX
Muzaffarabad
MFG
Nawabshah
WNS
Nushki
NHS
Ormara
ORW
Panjgur
PJG
Sargodha
SGI
Sawan
RZS
Sehwen Sharif
SYW
Shikarpur
SWV
Sialkot
SKT
Sibi
SBQ
Skardu
KDU
Sui
SUL
Sukkur
SKZ
Taftan
TFT
Badin
BDN
Tarbela
TLB
Chilas
CHB
Chitral
CJL
Dadu
DDU
Dalbandin
DBA
Dera Ghazi Khan
DEA
Dera Ismail Khan
DSK
Faisalabad
LYP
Gilgit
GIL
Kadanwari
KCF
Kalat
KBH
Khuzdar
KDD
Kohat
OHT
Lora Lai
LRG
Mangla
XJM
Mansehra
HRA
Mianwali
MWD
Para Chinar
PAJ
Pasni
PSI
Peshawar
PEW
Quetta
UET
Rahim Yar Khan
RYK
Rawala Kot
RAZ
Sahiwal
SWN
Saidu Sharif
SDT
Turbat
TUK
Wana
WAF
Zhob

PZH
_______________________________________

Wednesday, February 6, 2019

حج اخراجات میں اضافہ اور وفاقی کابینہ کی باضابطہ منظوری


 گزشتہ دنوں وفاقی کابینہ نے حج پالیسی 2019ء کی باضابطہ منظوری دے دی، جس میں حجاج کرام کو کسی قسم کی سبسڈی نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ رواں سال ایک لاکھ 84ہزار 210 پاکستانی فریضہ حج ادا کریں گے جس میں سرکاری حج کوٹہ 60 فیصد، جبکہ پرائیویٹ ٹور آپریٹرز کا کوٹہ 40فیصد رکھا گیا ہے ۔ اس طرح ایک لاکھ 7 ہزار پاکستانی سرکاری سکیم کے تحت فریضہ حج ادا کریں گے جبکہ 76 ہزار سے زائد عازمین پرائیویٹ سکیم کے تحت سعودی عرب جائیں گے۔ سرکاری سکیم کے تحت حج2019 ء کے لیے درخواستیں 20 فروری سے وصول کی جائیں گی۔ پی ٹی آئی کی حکومت میں ملک میں جاری مہنگائی کے طوفان اور معاشی بدحالی ،ڈ الر اور ریال کی قیمت میں مسلسل اضافہ اور روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے حج اخراجات میں بھی ہوشربا اضافہ کردیا گیا ہے ۔
حکومت نے حج اخراجات کو دو زونز میں تقسیم کیا ہے ، جس کے مطابق شمالی زون کے حج اخراجات 4 لاکھ 36 ہزار 975 روپے اور جنوبی زون کے حج اخراجات 4 لاکھ 27 ہزار 975 روپے ہوں گے۔ واضح رہے کہ حج 2018ء میں سرکاری سکیم کے تحت اخراجات 2 لاکھ 80 ہزار روپے سے 2 لاکھ 92 ہزار روپے تک تھے ،اس طرح رواں سال حج اخراجات میں تقریباً ایک لاکھ پینتالیس ہزار روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ وزارت حج کے مطابق اس سال بھی 80 سال سے زائد عمر کے پاکستانی شہر ی بغیر قرعہ اندازی حج ادا کر سکیں گے، جبکہ 3 سال سے مسلسل ناکام رہنے والے 10 ہزار عازمین بھی بغیر قرعہ اندازی حج پر جاسکیں گے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاہدہ کے مطابق سعودی حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ تر پاکستانی حجاج کو اولڈ منیٰ میں ٹھہرانے کی کوشش کی جائے گی۔سعودیہ میں پاکستانی حجاج کی ٹرانسپورٹیشن کے لیے گاڑیاں صرف 2015ء سے 2019ء کے ماڈل کی ہوں گی جبکہ رہائش کے لیے عمارتوں میں کم از کم 2 لفٹیں، انٹرنیٹ، وائی فائی کی سہولت فراہم کی جائیگی ۔ پاک سعودی معاہدے کی روح سے پاکستانی حجاج کو ای ویزہ دیا جائے گا۔ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری کا کہنا ہے کہ 2019ء کے حج کوانتظامات کے لحاظ سے مثالی بنایا جائے گا ۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب پرائیویٹ ٹورزآپریٹرز غلط بیانی سے کام لیتے ہیں۔ پرائیویٹ ٹوورآپریٹرز کو چاہئے کہ غلط بیانی کی بجائے حجاج کو حقائق سے آگاہ کریں ، فاصلہ جتنا ہو اتنا ہی بتایا جائے اور حجاج کرام کی تربیت درست اندازمیں کی جائے ۔ جبکہ علمائے کرام کو مساجد میں حجاج کی تربیت کا اہتمام کرنا چاہیے۔
بلاشبہ حج اس لحاظ سے بڑی نمایاں عبادت ہے کہ یہ بیک وقت روحانی، مالی اور بدنی تینوں پہلوؤں پر مشتمل ہے، یہ خصوصیت کسی دوسری عبادت کو حاصل نہیں ہے۔ کسی بھی مسلمان کے سفر حج کا مقصد ایک فرض ادا کرنا ، اپنے ربّ کو راضی کرنا، گناہوں کی معافی مانگنا ، اپنے نفس کو پاک کرنا اور اب تک کی زندگی میں کئے جانے والے اعمال پر توبہ کرکے باقی عمر اسلامی احکامات کے مطابق گزارنے کا عزم کرنا ہوتا ہے۔ مگر صد افسوس کہ گزشتہ دور حکومتوں میں حج جیسے مقدس فریضے کی انجام دہی میں بھی حکومتی شخصیات نے کرپشن کے ریکارڈ بنا کر اور حجاج کرام کو مشکلات سے دوچار کرکے کرپشن کی بدترین مثالیں قائم کی ۔حج پہلے ہی سخت جدوجہد اور مشقت والی عبادت ہے ، حکومتی بد انتظامی کے باعث حجاج کرام کو مشکلات سے دوچار کیا جاتا رہا ۔
موجودہ وزارت مذہبی امور کی جانب سے حج 2019ء میں حاجیوں کی سہولیات کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے اعلانات تو کئے جارہے ہیں مگر حج اخراجات میں ہوشربا اضافہ کرکے غریب اور متوسط طبقے کے پاکستا نیوں کے لیے مشکلات پیدا کردی گئیں ہیں ۔ جبکہ ضروری تھا کہ بھر پور کوشش سے حج اخراجات میں کمی لائی جاتی تاکہ سینے میں اللہ تعالیٰ کے گھر اور در مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار کی تڑپ رکھنے والے غریب پاکستانی بھی حج کی سعادت سے محروم نہ رہتے اور فریضہ حج ادا کرسکتے ۔

Monday, February 4, 2019

5 February Kashmir Day || فروری ۵ کشمیر ڈے

5 Feb, Kashmir Day


کسی بھی قوم کے لئے ایک اپنی پہچان،ایک نام اور ا یک نظریےکا ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ نام اوریہ پہچان ہی اُسے دوسری قوموں سے منفرد بناتی ہے۔ کشمیری ماؤں نے بھی اپنی واضح پہچان کے لئے آزادی کے نام پر ہزاروں جوان بیٹے تک قربان کر دیے کیونکہ اِن کی نظر میں اپنے لخت جگر سے زیادہ اہم آزادی ہوا کرتی ہے۔آج کشمیر کا ہر نوجوان قلم اُٹھانے سے کہیں زیادہ ہتھیار اُٹھانے کو ترجیح دے رہا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ غلامی میں حاصل کی گئی تعلیم سے بہتر تو وہ جہالت ہوا کرتی ہے جو جدوجہد آزادی میں گزار دی جائے۔
بدقسمتی سے گزشتہ کئی دہائیوں سے کشمیری عالمی اداروں کے فیصلوں کے منتظر ہیں۔وہ اپنے حقوق کے لئے بلاخوف وخطر لڑ رہے ہیں جس کے لئے اُنہیں دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔ کشمیریوں کا مقصد، عزم اور امید آج بھی یہی ہے۔ وہ کیوں ایسا چاہتے ہیں یہ کسی کو اُن سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ کشمیری ایک طویل عرصے سے بھارتی مظالم سہہ سہہ کر بھی بھارت سے الحاق نہیں چاہتے۔کشمیر کی سرزمین پر آج بھی سبز ہلالی پرچم نظر آتے ہیں۔آج بھی کشمیری مائیں اپنے شہید بیٹوں کے کفن پرسبز ہلالی پرچم ٖفخر سے ڈالتی ہیں۔ اس خطے کی وہ نسل جو کبھی آزادی کے نعرے لگانے سے ڈراکرتی تھی آج یہی نوجوان نسل، بوڑھے اور بچے سرعام “کشمیر بنے گا پاکستان” اور ” پاکستان زندہ باد” کے نعرےلگا رہے ہیں اور اُن کےلگائے جانے والے فلک شگاف نعروں سے پورا کشمیر گونج رہا ہے۔ یہ نعرے اقوام متحدہ جیسے اداروں کے لئے خطے میں ہونے والی بہت بڑی تباہی کا واضح پیغام دے رہے ہیں جسے یہ عالمی ادارے سمجھنے سے قاصر ہیں۔
ایک طویل عرصے سےکشمیر کا مسئلہ دنیا بھر میں ایک نہ حل ہونے والا پزل گیم بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال۵ فروری کو کشمیر ڈے منانے کی روایت تو کئی برسوں سے جاری ہے لیکن یہ روایت اظہار یک جہتی تک ہی محدود کیوں رہے؟ ہم اب تک مسئلہ کشمیر پر عملی اقدام کرنے سے قاصر ہیں۔ آخر کشمیر کب بنے گا پاکستان؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم کشمیریوں کو حق دلانے سے آہستہ آہستہ دستبردار ہوتے جارہے ہیں؟ ہماری حکومتی سپورٹ نہ ہونے اور کئی نسلیں قربان کر دینے کے باوجود بھی کشمیریوں کا حوصلہ اور عزم بلند ہے ا ور وہ آزادی کی امید لئے اپنی منزل کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

کشمیریوں کا یہ حوصلہ یہ عزم اقوام متحدہ کے لئے باعث ندامت ہے کہ وہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے سنجیدہ نہیں۔ اقوام متحدہ کے اس غیر ذمہ دارانہ رویے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے ان بااختیار اداروں کے پاس تو اپنی ہی منظور کردہ قراردادوں پر عمل درآمد کروانے کابھی اختیار نہیں ہے کہ وہ بھارت کے چنگل سے کشمیر آزاد کر واسکیں۔ صرف قراردادیں منظور کرنے سے مسائل حل نہیں ہوجا تے اُن پر عمل درآمد کروانا بھی ضروری ہوتا ہے۔

Free Accounts for Netflix 2019

Free Accounts for Netflix

  • tjs1966@gmail.com
    Password: danbrown2
  • ddffarriaga@gmail.com
    Password: maffrmota2
  • remaclefamily@gmail.com
    Password: substation232
  • mattsirois20@gmail.com
    Password: diecast8
  • nataliyva.herus@gmail.com
    Password: 17737271888
  • jrrllicey@hotmail.com
    Password: 123456
  • eeyidogan@hotmail.com
    Password: 517454614
  • ricardoisidoro@bol.com.br
    Password: 008249
  • barxky1976@yahoo.com
    Password: interview0929
  • troy.thompson@hotmail.com
    Password: Killbox13
  • ijuvota@gmail.com
    Password: cdefgahc
  • stonti@hotmail.com
    Password: swiss05
  • emilybeswan98@gmail.com
    Password: emily098
  • wilsonwendy@yahoo.com
    Password: wendy65@
  • measondewin8@yahoo.com
    Password: 88@melvik
  • tarek_moussa13@hotmail.com
    Password: 2201grsd
Every time I update New accounts someone change password. No Account will work from above those. I will recommend you to purchase from account bot.

Education System In Pakistan, Urdu Article





آج ہمارے معاشرے کے گوناگوں مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ نوجوان نسل کی
 تعمیری رہنمائی کافقدان ہے جس میں کلیدی کرداردیگر اسباب کے ساتھ ساتھ ذرائع ابلاغ اور تعلیمی نظام کا بھی ہے۔ وطن عزیز میں طلبا کی تعلیم و تربیت اور ان کی تخلیقی صلاحیتیں اجاگر کرنے کے لیے صحیح معنوں میں ایک بھی ٹیلی ویژن چینل نہیں ہے۔ تفریح کے نام پر قوم کو مادیت پرستی کی طرف دھکیلا جارہا ہے ۔دوسری طرف ہماراتعلیمی نظام سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں پر مشتمل ہے۔ سرکاری سکولوں کی حالت زار سب کے سامنے ہےاور آجکل پرائیویٹ سکولوں پر تنقید کا سلسلہ بھی زبان زدِعام ہے۔ ان کو آف شور کمپنیاں بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ فیسوں کے معاملات پر ذرائع ابلاغ کے چرچے، ٹاک شوز، بحث و مباحثے، بیٹھکیں ہمارے طلبا کے ذہنوں کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔ ان سے قوت فیصلہ اور بھروسہ و اعتماد چھین کر بدتہذیب بنا رہے ہیں۔
اعدادو شمار، جمع تفریق ، ضرب تقسیم سے قطع نظر ایک عام شہری کی حیثیت سے میری اہل اقتدار اور اعلٰی عدلیہ سے گزارش ہے کہ ذرا تصویر کا دوسرا رخ بھی ملاحظہ فرمائیں۔ اس قسم کے موضوعات پر میڈیا پر اور گھروں میں مباحثوں اور تنقید سے نہ صرف ہماری نوجوان نسل پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں بلکہ اس سے بحیثیت مجموعی تمام تعلیمی اداروں کا وقار مجروح ہو رہا ہے۔ والدین اور طلبا اساتذہ کرام کو چند روپوں کے عوض پڑھانے والا مزدور سمجھ رہے ہیں ۔ اس سے تعلیم تو جاری وساری رہے گی لیکن باقی ماندہ علم بھی ناپید ہو جائے گا،جبکہ ایک مخلص قوم کے معمار کو تو حق ادا کیا ہی نہیں جاسکتا۔ والدین فیس کے نام پر انفرادی طور پر چند روپے تو حاصل کر لیں گے لیکن نسلوں کے اس ذہنی خلفشار کا سبب کون ہو گا؟ یاد رکھیے ہمارے تعلیمی نظام کا بیشتر حصہ پرائیویٹ سکولوں پر مشتمل ہے اوران کو گورنمنٹ یا کسی ادارے سے کسی قسم کی کوئی امداد نہیں ملتی۔

معاشرے کے سفیدپوش طبقے کے افراد کا روزگار ان تعلیمی اداروں کے ساتھ وابستہ ہےجو اپنے خاندانوں کے کفیل ہیں۔ اس قسم کے فیصلوں سے یقینا ًیہ طبقہ متاثر ہو گا، بے روزگاری مزید بڑھ جائے گی ۔ اساتذہ کرام روزگار کے مسائل میں الجھ کر پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا نہیں کر سکیں گے۔ تعلیمی معیار کم ہو جائے گا۔اس صورت حال میں ٹھوس اور جامع اقدامات کی ضرورت ہے۔ فیصلے کے تمام پہلوؤں کا ازسر نو جائزہ لیا جائے۔ سب کو ایک ہی لاٹھی سے نہ ہانکا جائے۔ فیسوں کی واپسی صرف ان ہی تعلیمی اداروں تک محدود رہے جو حقیقت میں کئی سو فیصد منافع حاصل کررہے ہیں۔ دیگر اداروں کو آگاہ کر کے فیصلوں پر عملداری اگلے سال سے شروع کی جائے تاکہ معاشرے کے کسی بھی طبقے پر بوجھ نہ پڑے اور ان سے وابستہ کسی فریق پر کوئی بوجھ نہ پڑے۔

Sardar Ubaid Ur Rahman Boxer First Victory

Sardar Ubaid Ur Rahman Boxer first Victory