Buy Awesome Gaming logo , Twitch Logo, Your Cartoon Sketch Logo.







                                                           Order Your Logo here


 -Professional Logo Designs
  - Buisness Logo
  - Website Logo
   - Gaming Logo
   - Youtube Logo

___________________________________________________

عادل ڈار

کاک پورہ گاؤں میں اپنے گھر سے ایک برس قبل بھاگ جانے کے بعد عادل ڈار جیش محمد میں شامل ہو گئے اور بندوق اٹھا لی۔ عادل ڈار کا گھر دو منزلہ ہے جہاں ان کے گھر والے پہلی منزل پر رہتے ہیں۔ یہ کسانوں کا خاندان ہے۔ عادل ڈار کے والد غلام حسن ڈار نے کہا کہ اب کشمیریوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے، وہ جان ومال کو لاحق خطرات سمیت ہر خوف سے آزاد ہو چکے ہیں، اس مسئلے کا واحد حل مذاکرات ہیں، کوئی نہ کوئی کشمیری نوجوان ہر روز زندگی سے محروم ہو کر موت کے اندھیروں میں گم ہو جاتا ہےؕ
غلام حسن ڈار نے کہا کہ میں تنازع کشمیر کے فریقوں سے اپیل کرتا ہوں کہ خدا کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ مذاکرات شروع کریں، یہ لوگ میری بات پر توجہ کیوں نہیں دیتے؟ غور کرنے کا مقام ہے کہ اگر جنگ کے بعد بھی مذاکرات کی میز پر ہی آنا پڑے گا، جب تک مسئلہ کشمیر پر کوئی فیصلہ نہیں ہو جاتا ہمارے نوجوان لہو میں ڈوبے رہیں گے ، آج یہ میرے بیٹے کے ساتھ ہوا، کل یہی کسی اور کی اولاد کے ساتھ ہو گا، کشمیر کے نوجوان میرے بیٹے کی قربانی سے متاثر ہو کر آزادی کیلئے بندوق اٹھا لیں گے، یہ ان بچوں کے مرنے کی عمر ہرگز نہیں ہے، اب یہ خونیں باب بند ہو جانا چاہیے اور ہمارے بچوں کو زندہ رہنے کا موقع ملنا چاہیے۔
انھوں نے مزید کہا کہ میں نے پڑھا ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے حال ہی میں بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ جائزہ لے کہ آخر کشمیری نوجوان بندوق اٹھانے پر کیوں مجبور ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میری دانست میں عمران خان کی بات میں وزن اور معقولیت ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا بھارت میں کسی نے اس بات پر توجہ دینے کی زحمت کی؟
غلام حسن کا کہنا تھا کہ 18 سے 25 سال تک عمر کے کشمیری نوجوان تیزی سے مسلح جدوجہد کا حصہ بنتے جارہے ہیں، پہلے وہ ذہنی اور قلبی طور پر اس جدوجہد اور شہادت پانے والے اپنے ہم عمر نوجوانوں سے متاثر ہوتے ہیں، پھر ان کے ہاتھوں میں بندوقیں آ جاتی ہیں، 20سالہ عادل ڈار کے والد نے بتایا کہ بھارتی سکیورٹی فورسز نے 2016 کے دوران پہلی مرتبہ میرے بیٹے کو پکڑ کر اسے تشدد کا نشانہ بنایا جب وہ اپنے دادا اور دادی سے ملاقات کے بعد‘‘ نیوا ’’ نامی قریبی گائوں سے گھر واپس آرہا تھا۔
بھارتی فوج کے ظلم کا ایسا ہی دوسرا واقعہ 2017 میں پیش آیا، بھارتی فوجی اہلکاروں نے عادل ڈار کو گرفتار کرنے کے بعد اسے بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ اس کی اہانت بھی کی، غلام حسن ڈار نے بتایا کہ بھارتی فوجیوں نے طاقت کے زور پر میرے بیٹے کو سڑک پر ناک رگڑنے پر مجبور کیا، اس ظلم کا شکار ہونے کے بعد جب عادل گھر پہنچا تو اس کے جسم پر کئی زخم تھے جن سے خون بہہ رہا تھا، اس نے مجھ سے کہا کہ مجھ پر جو تشدد ہوا اور بھارتی فوجیوں نے میری جو تضحیک کی اسے برداشت کرکے زندہ رہنے کی نسبت تو مر جانا ہی بہتر ہے۔
غلام حسن ڈار نے کہا کہ مجھ سمیت گھر کے تمام افراد نے عادل کو سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ اس پر جو ظلم ہوا اسے دل پر نہ لے، کیونکہ بھارتی فوجیوں کو مظالم کرنے سے روکنا ان کے بس کی بات نہیں ہے لیکن عادل ایسی کوئی بات سننے پر رضامند ہی نہیں تھا، اس نے دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ ‘‘ میں ہر قیمت پر آزادی چاہتا ہوں، آزادی کیلئے میں اپنی جان بھی قربان کردوں گا’’۔
غلام حسن ڈار نے سوال اٹھایا کہ مجھے بتائیے کہ ایک باپ کی حیثیت سے میں کیا کروں؟ کیونکہ مقبوضہ کشمیر میں ہر دوسرے روز بھارتی سکیورٹی فورسز کے اہلکار نوجوانوں کو وحشیانہ مظالم اور اہانت کا نشانہ بناتے ہیں، جب ہمارے بچے اپنے گھروں سے باہر جاتے ہیں اور اپنی آنکھوں سے دوسرے کشمیری نوجوانوں کو بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں وحشیانہ مظالم اور اذیت ناک اہانت کا نشانہ بنتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ان پر شدید ردعمل ہوتا ہے، ان کے دل کی گہرائیوں 
سے یہی صدا بلند ہوتی ہے کہ اٹھو اور شمع آزادی پر اپنی جان قربان کر دو۔
________________________________________________________________________________
 

برہان مظفر وانی

مقبوضہ کشمیرمیں واقع شریف آباد وہ علاقہ ہے جہاں برہان الدین وانی اپنے خاندان کے ساتھ رہا کرتا تھا، 2016 میں بھارتی
 فوجیوں کے ساتھ ایک مقابلے میں وہ شہید ہو گیا تھا، اس کے فوری بعد پوری وادی میں نہ صرف یہ کہ شدید بے چینی پھیل گئی تھی بلکہ آزادی کشمیر کیلئے مسلح جدوجہد کو بہت بڑے پیمانے پر فروغ ملا تھا، برہان وانی کی شہادت سے کشمیری عوام بالخصوص نوجوانوں میں ایک جذبہ تازہ پیدا ہوگیا تھا جس کا مظاہرہ اب بھی کسی نہ کسی صورت ہوتا رہتا ہے۔
برہان کے والد مظفر احمد وانی درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں، وہ ریاضی کے استاد ہیں اور اب بھی اپنے خاندان کے ساتھ اسی گائوں میں رہتے ہیں، مظفر وانی نے پہلے تو گفتگو سے گریز کرنے کی کوشش کی، ان کا کہنا تھا کہ پوری وادی میں صورتحال انتہائی مخدوش اور دھماکہ خیز ہو چکی ہے ، انہوں نے کہا کہ میں اپنے دو جوان بیٹوں کو قربان کر چکا ہوں، ذرائع ابلاغ کے نمائندے اکثر میرے پاس آجاتے ہیں، مجھے خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ بھارتی سکیورٹی فورسز کے اہلکار ایک مرتبہ پھر میرے دروازے پر دستک دیں گے ، میں ایسا نہیں چاہتا کیونکہ اب میں اپنے خاندان کے ساتھ زندگی کی گاڑی کو کھینچنے پر پوری توجہ مرکوز کرنا چاہتا ہوں۔
مظفر احمد وانی نے جو ایک سرکاری سکول کے پرنسپل ہیں، زور دے کر کہا کہ مسئلہ کشمیر کو ہمیشہ کیلئے حل کرنا بے حد ضروری ہو گیا ہے ، حکومت کو چاہیے کہ اب اس معاملے کو طول دینے کی کوشش ہرگز نہ کرے، بھارتی حکومت کو چاہیے کہ اس معاملے پر پاکستان اور جموں و کشمیر کے عوام سے مذاکرات کرے، کشمیر کو محض ووٹ بینک سمجھنا بہت بڑی غلطی ہو گی۔ مظفر احمد وانی نے کہا کون سے والدین اپنے بچوں کی بہتری نہیں چاہتے؟ کون سے ماں باپ نہیں چاہتے کہ ان کابیٹا اچھی تعلیم حاصل کرے، اسے اچھی ملازمت ملے اور وہ اطمینان کے ساتھ باوقار زندگی بسر کرے۔
انہوں نے انتہائی غمناک لہجے میں کہا کہ میری خواہش تھی کہ میرا بڑا بیٹا معاشیات میں پی ایچ ڈی کرے لیکن یہ میری بد نصیبی تھی کہ وہ بھارتی سکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں نشانہ بن گیا، اسی طرح میں چاہتا تھا کہ چھوٹا افسر بن جائے لیکن میں نہیں جانتا تھا کہ میرے نصیب میں تو دونوں ہونہار بیٹوں سے محرومی لکھی تھی۔
مظفر احمد وانی نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں نوجوان اس وقت حالات کے دبائو کی وجہ سے اسلحہ اٹھانے پر مجبور ہو گئے ہیں، ہماری نسل تو بڑی حد تک ہچکچاہٹ اور شاید کم حوصلگی کا شکار تھی لیکن اس کے برعکس کشمیریوں کی موجودہ نسل بے خوف اور پراعتماد ہے، ہماری نئی نسل اچھی طرح جانتی ہے کہ اگر انہوں نے اسلحہ اٹھایا تو جلد یا بدیر بھارتی سکیورٹی فورسز انہیں ہلاک کر دیں گی، اس کے باوجود وہ کشمیر کی آزادی کیلئے مسلح جدوجہد میں شریک ہونے کیلئے ہر وقت بے تاب رہتے ہیں، یہ بہت خطرناک رجحان ہے۔
انہوں نے کہا کہ تنازع کشمیر کو حل کرنے کی خاطر پاکستان اور بھارت کو بلا تاخیر بات چیت شروع کرنی چاہئے اور ان مذکرات کی بنیاد ‘‘ انسانیت’’ ہونی چاہئے، مظفر وانی نے کہا کہ حال ہی میں جب پاکستان نے گرفتار بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو رہا کیا تو ہمیں بہت اطمینان ہوا تھا، پاکستان کا یہ اقدام اس بات کا ثبوت تھا کہ انسانیت ابھی فنا نہیں ہوئی بلکہ زندہ ہے۔
__________________________________________________________________________________

 ریاض نیکو

ماہرین کے مطابق جنوبی کشمیر میں سب سے زیادہ متحرک حزب المجاہدین ہے جس کی قیادت 33 سالہ ریاض نیکو کے ہاتھ میں ہے جو ہمیشہ ایک استاد رہا ہے۔ نیکو کا تعلق پلوامہ کے گاؤں بیگ پورہ سے ہے، سات برس قبل ریاضی میں اپنی ڈگری مکمل کرنے کے بعد نیکو نے ہتھیار اٹھا لیا ۔ریاض نیکو کے اہل خانہ نے اب یہ تسلیم کر لیا ہے کہ گھر میں جلدی یا دیر سے نیکو کی لاش ہی آئے گی۔
نیکو کے والد اسداللہ نیکو کہتے ہیں کہ جب بھی کوئی انکاؤنٹر ہوتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ ان کا بیٹا مرنے والوں میں شامل ہو گا۔ جب ان سے علیحدگی پسند تحریک کی حمایت اور بحیثیت والد ان کے جذبات کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا ‘بحیثیت مسلمان یہ فخر کی بات ہے، ہم یہ نہیں گے کہ یہ غلط ہے، اگر وہ منشیات یا غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہوتا تو ہمارا نام بدنام ہوتا لیکن ہمیں اس بات کا سکون ہے کہ وہ صحیح کام کر رہا ہے۔

List Of 3 Websites To Call Phone Online For Free Without Registering:

  1. IEvaphone – This website allows you to call any phone number in the world (international phone numbers) for around 3 minutes (180 seconds). The interface is pretty good. No hassles! :) :) :)This is one of the most popular free phone calling websites in the world. Normally, you will be allowed to make only 1 or 2 calls per day. This website has always worked for me, which is why I have it on the top of this list!
    IEvaphone Screenshot
  2. Call2Friends – This website is similar to IEvaphone. The only difference is that it looks better. :D :D :D Here also, you will get to make a phone call for around 3 minutes (180 seconds) and you will normally be allowed to make only 1 or 2 calls per day. However, sometimes this site does not seem to work properly. That is the reason it is second on this list. I mean, it works like 90% to 95% of the time. So, it is not a big issue.
    Call2Friends - Screenshot
  3. Globfone – This is not as good as the above two options, simply because it does not work a lot of time. But still, you might give it a try if you are desperate to make quite a few phone calls online for free. It allows you to make a 2-minute phone call for free. Also, you must know that this website causes a lot of troubles if Java is not installed properly on your computer. :cry: :cry: :cry: So make sure that such is not the case.
    Globfone - Screenshot



Abbreviations list of cities in Pakistan


___________________________________________
Abbottabad
AAW
Lahore
LHE
Attock
ATG
Bahawalnagar
WGB
Bahawalpur
BHV
Bannu
BNP
Sargodha
BHW
Gujrat
GRT
Gwadar
GWD
Hyderabad
HDD
Islamabad
ISB
Jacobabad
JAG
Karachi
KHI
Jiwani
JIW
Mirpur Khas
MPD
Mohenjodaro
MJD
Multan
MUX
Muzaffarabad
MFG
Nawabshah
WNS
Nushki
NHS
Ormara
ORW
Panjgur
PJG
Sargodha
SGI
Sawan
RZS
Sehwen Sharif
SYW
Shikarpur
SWV
Sialkot
SKT
Sibi
SBQ
Skardu
KDU
Sui
SUL
Sukkur
SKZ
Taftan
TFT
Badin
BDN
Tarbela
TLB
Chilas
CHB
Chitral
CJL
Dadu
DDU
Dalbandin
DBA
Dera Ghazi Khan
DEA
Dera Ismail Khan
DSK
Faisalabad
LYP
Gilgit
GIL
Kadanwari
KCF
Kalat
KBH
Khuzdar
KDD
Kohat
OHT
Lora Lai
LRG
Mangla
XJM
Mansehra
HRA
Mianwali
MWD
Para Chinar
PAJ
Pasni
PSI
Peshawar
PEW
Quetta
UET
Rahim Yar Khan
RYK
Rawala Kot
RAZ
Sahiwal
SWN
Saidu Sharif
SDT
Turbat
TUK
Wana
WAF
Zhob

PZH
_______________________________________


 گزشتہ دنوں وفاقی کابینہ نے حج پالیسی 2019ء کی باضابطہ منظوری دے دی، جس میں حجاج کرام کو کسی قسم کی سبسڈی نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ رواں سال ایک لاکھ 84ہزار 210 پاکستانی فریضہ حج ادا کریں گے جس میں سرکاری حج کوٹہ 60 فیصد، جبکہ پرائیویٹ ٹور آپریٹرز کا کوٹہ 40فیصد رکھا گیا ہے ۔ اس طرح ایک لاکھ 7 ہزار پاکستانی سرکاری سکیم کے تحت فریضہ حج ادا کریں گے جبکہ 76 ہزار سے زائد عازمین پرائیویٹ سکیم کے تحت سعودی عرب جائیں گے۔ سرکاری سکیم کے تحت حج2019 ء کے لیے درخواستیں 20 فروری سے وصول کی جائیں گی۔ پی ٹی آئی کی حکومت میں ملک میں جاری مہنگائی کے طوفان اور معاشی بدحالی ،ڈ الر اور ریال کی قیمت میں مسلسل اضافہ اور روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے حج اخراجات میں بھی ہوشربا اضافہ کردیا گیا ہے ۔
حکومت نے حج اخراجات کو دو زونز میں تقسیم کیا ہے ، جس کے مطابق شمالی زون کے حج اخراجات 4 لاکھ 36 ہزار 975 روپے اور جنوبی زون کے حج اخراجات 4 لاکھ 27 ہزار 975 روپے ہوں گے۔ واضح رہے کہ حج 2018ء میں سرکاری سکیم کے تحت اخراجات 2 لاکھ 80 ہزار روپے سے 2 لاکھ 92 ہزار روپے تک تھے ،اس طرح رواں سال حج اخراجات میں تقریباً ایک لاکھ پینتالیس ہزار روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ وزارت حج کے مطابق اس سال بھی 80 سال سے زائد عمر کے پاکستانی شہر ی بغیر قرعہ اندازی حج ادا کر سکیں گے، جبکہ 3 سال سے مسلسل ناکام رہنے والے 10 ہزار عازمین بھی بغیر قرعہ اندازی حج پر جاسکیں گے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاہدہ کے مطابق سعودی حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ تر پاکستانی حجاج کو اولڈ منیٰ میں ٹھہرانے کی کوشش کی جائے گی۔سعودیہ میں پاکستانی حجاج کی ٹرانسپورٹیشن کے لیے گاڑیاں صرف 2015ء سے 2019ء کے ماڈل کی ہوں گی جبکہ رہائش کے لیے عمارتوں میں کم از کم 2 لفٹیں، انٹرنیٹ، وائی فائی کی سہولت فراہم کی جائیگی ۔ پاک سعودی معاہدے کی روح سے پاکستانی حجاج کو ای ویزہ دیا جائے گا۔ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری کا کہنا ہے کہ 2019ء کے حج کوانتظامات کے لحاظ سے مثالی بنایا جائے گا ۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب پرائیویٹ ٹورزآپریٹرز غلط بیانی سے کام لیتے ہیں۔ پرائیویٹ ٹوورآپریٹرز کو چاہئے کہ غلط بیانی کی بجائے حجاج کو حقائق سے آگاہ کریں ، فاصلہ جتنا ہو اتنا ہی بتایا جائے اور حجاج کرام کی تربیت درست اندازمیں کی جائے ۔ جبکہ علمائے کرام کو مساجد میں حجاج کی تربیت کا اہتمام کرنا چاہیے۔
بلاشبہ حج اس لحاظ سے بڑی نمایاں عبادت ہے کہ یہ بیک وقت روحانی، مالی اور بدنی تینوں پہلوؤں پر مشتمل ہے، یہ خصوصیت کسی دوسری عبادت کو حاصل نہیں ہے۔ کسی بھی مسلمان کے سفر حج کا مقصد ایک فرض ادا کرنا ، اپنے ربّ کو راضی کرنا، گناہوں کی معافی مانگنا ، اپنے نفس کو پاک کرنا اور اب تک کی زندگی میں کئے جانے والے اعمال پر توبہ کرکے باقی عمر اسلامی احکامات کے مطابق گزارنے کا عزم کرنا ہوتا ہے۔ مگر صد افسوس کہ گزشتہ دور حکومتوں میں حج جیسے مقدس فریضے کی انجام دہی میں بھی حکومتی شخصیات نے کرپشن کے ریکارڈ بنا کر اور حجاج کرام کو مشکلات سے دوچار کرکے کرپشن کی بدترین مثالیں قائم کی ۔حج پہلے ہی سخت جدوجہد اور مشقت والی عبادت ہے ، حکومتی بد انتظامی کے باعث حجاج کرام کو مشکلات سے دوچار کیا جاتا رہا ۔
موجودہ وزارت مذہبی امور کی جانب سے حج 2019ء میں حاجیوں کی سہولیات کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے اعلانات تو کئے جارہے ہیں مگر حج اخراجات میں ہوشربا اضافہ کرکے غریب اور متوسط طبقے کے پاکستا نیوں کے لیے مشکلات پیدا کردی گئیں ہیں ۔ جبکہ ضروری تھا کہ بھر پور کوشش سے حج اخراجات میں کمی لائی جاتی تاکہ سینے میں اللہ تعالیٰ کے گھر اور در مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار کی تڑپ رکھنے والے غریب پاکستانی بھی حج کی سعادت سے محروم نہ رہتے اور فریضہ حج ادا کرسکتے ۔
5 Feb, Kashmir Day


کسی بھی قوم کے لئے ایک اپنی پہچان،ایک نام اور ا یک نظریےکا ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ نام اوریہ پہچان ہی اُسے دوسری قوموں سے منفرد بناتی ہے۔ کشمیری ماؤں نے بھی اپنی واضح پہچان کے لئے آزادی کے نام پر ہزاروں جوان بیٹے تک قربان کر دیے کیونکہ اِن کی نظر میں اپنے لخت جگر سے زیادہ اہم آزادی ہوا کرتی ہے۔آج کشمیر کا ہر نوجوان قلم اُٹھانے سے کہیں زیادہ ہتھیار اُٹھانے کو ترجیح دے رہا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ غلامی میں حاصل کی گئی تعلیم سے بہتر تو وہ جہالت ہوا کرتی ہے جو جدوجہد آزادی میں گزار دی جائے۔
بدقسمتی سے گزشتہ کئی دہائیوں سے کشمیری عالمی اداروں کے فیصلوں کے منتظر ہیں۔وہ اپنے حقوق کے لئے بلاخوف وخطر لڑ رہے ہیں جس کے لئے اُنہیں دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔ کشمیریوں کا مقصد، عزم اور امید آج بھی یہی ہے۔ وہ کیوں ایسا چاہتے ہیں یہ کسی کو اُن سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ کشمیری ایک طویل عرصے سے بھارتی مظالم سہہ سہہ کر بھی بھارت سے الحاق نہیں چاہتے۔کشمیر کی سرزمین پر آج بھی سبز ہلالی پرچم نظر آتے ہیں۔آج بھی کشمیری مائیں اپنے شہید بیٹوں کے کفن پرسبز ہلالی پرچم ٖفخر سے ڈالتی ہیں۔ اس خطے کی وہ نسل جو کبھی آزادی کے نعرے لگانے سے ڈراکرتی تھی آج یہی نوجوان نسل، بوڑھے اور بچے سرعام “کشمیر بنے گا پاکستان” اور ” پاکستان زندہ باد” کے نعرےلگا رہے ہیں اور اُن کےلگائے جانے والے فلک شگاف نعروں سے پورا کشمیر گونج رہا ہے۔ یہ نعرے اقوام متحدہ جیسے اداروں کے لئے خطے میں ہونے والی بہت بڑی تباہی کا واضح پیغام دے رہے ہیں جسے یہ عالمی ادارے سمجھنے سے قاصر ہیں۔
ایک طویل عرصے سےکشمیر کا مسئلہ دنیا بھر میں ایک نہ حل ہونے والا پزل گیم بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال۵ فروری کو کشمیر ڈے منانے کی روایت تو کئی برسوں سے جاری ہے لیکن یہ روایت اظہار یک جہتی تک ہی محدود کیوں رہے؟ ہم اب تک مسئلہ کشمیر پر عملی اقدام کرنے سے قاصر ہیں۔ آخر کشمیر کب بنے گا پاکستان؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم کشمیریوں کو حق دلانے سے آہستہ آہستہ دستبردار ہوتے جارہے ہیں؟ ہماری حکومتی سپورٹ نہ ہونے اور کئی نسلیں قربان کر دینے کے باوجود بھی کشمیریوں کا حوصلہ اور عزم بلند ہے ا ور وہ آزادی کی امید لئے اپنی منزل کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

کشمیریوں کا یہ حوصلہ یہ عزم اقوام متحدہ کے لئے باعث ندامت ہے کہ وہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے سنجیدہ نہیں۔ اقوام متحدہ کے اس غیر ذمہ دارانہ رویے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے ان بااختیار اداروں کے پاس تو اپنی ہی منظور کردہ قراردادوں پر عمل درآمد کروانے کابھی اختیار نہیں ہے کہ وہ بھارت کے چنگل سے کشمیر آزاد کر واسکیں۔ صرف قراردادیں منظور کرنے سے مسائل حل نہیں ہوجا تے اُن پر عمل درآمد کروانا بھی ضروری ہوتا ہے۔